Saturday, February 11, 2017

دو غداروں کا مصافحہ کیوں معاف کیا جائے

دو غداروں کا مصافحہ کیوں معاف کیا جائے ؟
مہاجر قوم کے دوبڑے غداروں نے کس کے حکم پرایک ہی تقریب میں شرکت کی، کس کی زیر ہدایت یہ ایک دوسرے کے ساتھ
بٹھائے گئے، کس کی فرمائش پر اس تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا، اس تقریب کا اصل مقصد کیا تھا؟ ۔۔۔۔۔ ان تمام سوالوں کے جواب ہرشخص جانتا ہے اور یہ ایک الگ موضوع بھی ہے لیکن اس واقعے کے بعد کچھ نادان دوست، غداروں کے کچھ ہمنوا اور کچھ اخلاقی قدروں کے نام نہاد نگہبان یہ کہتے ہوئے سنے گئے ہیں کہ اگر کوئی آپ کی طرف مصافحے کیلئے ہاتھ بڑھائے تو کیا آپ اس کا ہاتھ جھٹک دیں گے؟ یا اسےنظر انداز کردیں گے؟ کیا مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمیں ہاتھ نہیں ملانا چاہئے وغیر وغیرہ۔
ہم غداروں کے ہمنواؤں سے توبات کرنا بھی پسند نہیں کرتے لیکن اپنے نادان دوستوں سے یہ ضرور کہنا چاہیں گے کہ ایک چیز ہوتی ہے جسے غیرت کہتے ہیں اور ایک شئے وہ ہوتی ہے جسے عزت نفس یا سیلف رسپیکٹ کہا جاتا ہے۔ کیا آپ کو یاد ہے کہ کمالو وہ بیغیرت شخص ہے جس نے قائد تحریک کوہر وہ بات کہی جو اگر آپکے باپ کو کوئی کہہ دے تو آپ اس سے ہاتھ ملانا تو دور کی بات اسکی جان کے درپے ہوجایئں گے؟ کیا ایک شخص آپ کے باپ کے متعلق عوام کے درمیان بیٹھ کر کہے کہ وہ ہر وقت نشے میں دھت رہتا ہے، جو کہے کہ آپ کا باپ وہ ہے جس نے خود کو رسوا کرلیا، آپکے باپ پر لوگوں کو قتل کروانے کا الزام لگائے۔ ہر طرح کی بدتمیزی کرے، انکا مذاق اڑائے۔ اگر آپ غیرت و شرم والے ہیں تو کیا آپ ایسے شخص سے ہاتھ ملانا تو دور کی بات ہے اس کے منہ پر تھوکنا بھی پسند کریں گے؟ یقینا آپ کا جواب نہیں میں ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے آپ کے باپ کو گالی دے کر آپکی عزت نفس پراور آپکی غیرت پر حملہ کیا ہے۔ اور جو آپکی غیرت و ناموس پر، آپکی عزت پر حملہ کرے وہ کبھی اور کسی بھی غیرتمند کیلئے قابل قبول نہیں ہوسکتا۔
قائد تحریک الطاف حسین کا ہم سب کےدلوں میں اتنا ہی احترام ہے جتنا ہم اپنے باپ کا احترام کرتے ہیں۔ اگر کوئی قائد تحریک کوگالی دے دے تو ہم اس سے وہی سلوک کریں گے جو ہم اپنے باپ کو گالی دینے والے کے ساتھ کرتے۔ فاروق ستار مہاجر عوام کے دھوکہ دینے کیلئے بار بار یہ کہتا رہتا ہے کہ وہ بانی تحریک کا احترام کرتا ہے۔ اس کے ساتھ بیٹھے ہوئے بے ضمیر، بے غیرت، لالچی لوگ بھی بار بار یہی راگ الاپتے ہیں۔ یہ کیسا احترم ہے کہ تو اس شخص کے احترام کا دعوی کرے جس نے تجھے زمین سے اٹھاکر آسمان پر بٹھا دیا، تجھے ایسے ایوانوں میں بھیج دیا جن کا تو تصور تک نہیں کرسکتا تھا، تجھے ملک کے سب سے بڑے شہر کا میئر بنادیا جو تیرے کبھی وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتا تھا، تجھے سمندرپارپاکستانیوں کا وزیر بنا کر غیرممالک کے دوروں کا موقع فراہم کیا، تجھے قائد تحریک کی ہی بدولت ایسی گاڑیوں میں بیٹھنا  نصیب ہوا جن میں خود قائد کبھی نہیں بیٹھے   ۔ ۔ ۔  اور تیرا ظرف یہ کہ تو اس شخص سے ہاتھ ملانے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتا جو تیرے اس محسن کو جو تیرے لئے باپ جیسی شفقت رکھتا تھا گالیاں دے؟ اگر تجھ میں غیرت و حمیت کی ذرا سی بھی رمق ہوتی تو تو ہاتھ ملانے کی بجائے اسکی طرف سے کم ازکم منہ تو ضرور ہی پھیر لیتا۔ لیکن تونے تو اس عیش وآرام کیلئے  خود کو، اپنی عزت و ناموس کو،  شہیدوں کے لہو کو بیچ ڈالا تو تجھے ہاتھ تو ملانا ہی تھا۔
جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہاتھ ملالینے میں کیا حرج ہے وہ وہی ہیں جو اپنے باپ کو گالی دینے والے سے سر راہ ملتے ہیں تو نفرت سے منہ پھیر لینے کے بجائے ہنس کر، مسکراکراس سے ہاتھ ملا لینے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے۔
یقینا ایسے لوگ قابل نفرت ہیں۔ اور فاروق ستار اور اسکے ساتھ بیٹھے ہوئے لوگ ایسے ہی کمینے، بیغیرت و بے حیا اور کم ظرف ہیں۔

اگر الطاف حسین کا کوئی گمنام کارکن بھی اس کی جگہ ہوتا تو اس سے ہاتھ ملانے کی بجائے اسکے منہ پر تھوک دینا زیادہ پسند کرتا ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن یہ تو فاروق ستار ہے!

Saturday, January 28, 2017

مہاجروں کا تاریخی اتحاد

کئی لوگوں کے فہم کے مطابق اس وقت مہاجر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئے ہیں اور ان کا آپس کا اتحاد ختم ہوچکا ہے۔ ان کا یہ خیال اسلئے ہیکہ بہت سے سینئر ترین کارکنان نے مہاجر دشمن طاقتوں کے آگے سر ٹیک دیئے ہیں۔فاوق ستار سمیت بہت سے کارکنان و رہنما اسٹیبلشمنٹ کے آگے ڈھیر ہوچکے ہیں اور بے شمار کارکنان کو شدید ترین دباؤ کے تحت ان لوگوں کا جو اب غداروں کے زمرے میں داخل ہوچکے ہیں زبردستی ساتھ دینے پر مجبور کیا جارہا ہے جسکے لئے ان پر ہر غیر انسانی و غیر اخلاقی اور غیر قانونی حربہ اختیار کیا جارہا ہے۔ لیکن یہ حقیقت نہیں کہ مہاجر اتحاد ختم ہوچکا ہے بلکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اس وقت مہاجروں کا اتحاد جس قدر مضبوط ہے تاریخ میں کبھی اتنا مضبوط نہیں رہا تھا۔
 ہم نے طبعی نہیں بلکہ فکری اتحاد کی بات کی ہے۔ اور اسکی دلیل یہ ہے کہ اس وقت مہاجروں کے بچے بچے کے دل میں مہاجر قوم کی بقا کا سوال سر اٹھائے کھڑا ہے۔ بزرگ اپنے بچوں کے مستقبل کے حوالے سے فکر مند ہیں اور نوجوان اپنی قوم کے بارے میں فکرمند ہیں اور تاریخ میں اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ پوری کی پوری قوم اپنی بقا کے سوال پر یوں ذہنی و فکری طور پر ایک ہوگئی ہو۔یہی وہ تاریخ اور بے مثال اتحاد ہے جو قوموں کی زندگیوں میں انقلاب لایا کرتا ہے۔
اتحاد اگر کئی گروہوں کے ایک ساتھ مل کر بیٹھ جانے کا نام ہے تو پھر 88 اور اسکے بعد کے کچھ برس  تو مہاجر سب سے زیادہ متحد تھے۔ لیکن ظاہر ہے کہ اس سے مقاصد حاصل نہ ہوسکے کیونکہ اس وقت بحیثیت ایک قوم کے ہم میں فکری ہم آہنگی نہیں تھی۔
 یہ فکری ہم آہنگی اور بے مثال اتحاد جو اب مہاجر میں نظر آرہا ہے وہ سانحات و حوادثات، نا انصافیوں اور بے پناہ مظالم سہنے کے بعد ہی قائم ہوسکا ہے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ ایسا اتحاد بے شمار تکالیف سہے بغیر کسی بھی طرح ممکن نہ تھا۔ اور نہ ہی تاریخ عالم میں کوئی ایسی مثال ملتی ہے کہ کسی قوم نے بلا قربانی دیئے اپنے مقاصدحاصل کرلئے ہوں۔
 جو لوگ کچھ لوگوں کے علیحدہ ہوجانے پر یہ سمجھ رہے ہیں کہ آج مہاجر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکر کمزور ہوگئے ہیں انہیں بھی اس فکری مغالطے سے باہر آجانا چاہئے۔روشن حقیقت یہ ہے کہ قائد تحریک کی بے مثال فہم و فراست نے ان عناصر سے تحریک کو پاک کردیا ہے جو کسی بھی موقعے پرتحریک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتے تھے۔ یہ لوگ طویل عرصے سے تحریک کو نقصان پہنچاتے رہے اور بظاہر بہت اچھے بھی نظر آتے رہے۔ لیکن ان کا مقصد محض یہ تھا کہ قائد کے دیئے ہوئے مینڈیٹ سے اپنے ذاتی مفادات حاصل کرتے رہیں۔ اسمبلیوں اور سینیٹ میں آرام دہ نشستوں میں دھنسے قوم فروشی کا کاروبار کرتے رہیں اور اپنے بھانجوں، بھتیجوں کوپرکشش ملازمتیں اور غیر ملکی ویزے دلواتے رہیں۔ یہ وہ لوگ تھے کہ قائد کے احکامات کو صرف اسلئے ہوا میں اڑا دیتے تھے کہ اس سے انکی پرتعیش زندگیوں پر اثر پڑتا تھا۔ قائد نے جب بھی علیحدہ صوبے کی تحریک شروع کرنے کی بات کی ان لوگوں نے اسے سبوتاژ کردیا۔ یہ سینئر ہونے کا فائدہ اٹھاتے رہے لیکن تحریک میں بہت سے سینئرلیکن قائد،قوم اورمقصد سے غیرمخلص لوگوں کی موجودگی ہرگز تحریک کی طاقت نہیں بلکہ یہ تحریک کی کمزوری تھی۔ قائد نے اپنی بے مثال فہم وفراست سے کام لیتے ہوئے تحریک کو ان سے پاک کردیا اور مہاجر عوام کو بھی ان کا اصل چہرہ دکھادیا۔ آج اللہ نے قائد تحریک کی صورت میں ہمیں ایسا رہنما عطا فرمادیا ہے جس کی فہم و فراست نے ہمیں منزل سے قریب تر کردیا ہے۔
  مایوسی کا شکار ہونے والوں کو سمجھنا چاہئے کہ قائد نے اس وقت جو حکمت عملی اختیار کی ہے اس کے باعث تمام دشمن طاقتیں اعصاب کی جنگ میں شکست کو اپنے سامنے دیکھ رہی ہیں۔ منی لانڈرنگ کیس کیلئے برطانوی حکومت کو خط لکھنا انکی اس بدحواسی کا ہی مظہر ہےکیونکہ وہ شکست کو اپنے سامنے دیکھ رہے ہیں۔
 اعصاب کی یہ جنگ دشمن ہار چکا ہے اور قائد کی یہ بات یاد رکھیں کہ ہمارے ایک ایک ساتھی کی تصویر اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی اداروں میں موجود ہے۔ یعنی تمام عالمی اداروں میں مہاجروں کا مقدمہ کامیابی سے لڑا جارہا ہے اور انشاءاللہ فتح بہت جلد ہمارے قدم چومے گی۔ حالات پر نظر رکھیں اور سمجھنے کی کوشش کریں تو آپ کو بھی اندازہ ہوجائے گا کہ یہ محض الفاظ نہیں بلکہ حقائق ہیں اگر چہ ہم سے بیان کرنے میں کوتاہی ہو سکتی ہے۔

Thursday, December 29, 2016

نشتر پارک میں کل کا سورج کیا پیغام دیکر ڈوبے گا

نشتر پارک میں کل کا سورج کیا پیغام دیکر ڈوبے گا
قائد تحریک الطاف حسین ہمیشہ مہاجروں کے دکھ سکھ میں شریک رہے

گذشتہ کئی مہینوں سے الطاف بھائی بار بار کہتے رہے کہ نئے صوبے کیلئے جدوجہد شروع کی جائے، حتی کہ وہ تاریخ تک دیتے رہے لیکن وہ لوگ جنہیں آج پی آئی بی میں کمیں گاہ بناکر دی گئی ہے الطاف بھائی کی اس ھدایت پر عمل کرنے سے ہچکچاتے رہے، حیل حجت کرتے رہے، ٹال مٹول سے کام لیتے رہے۔

وجہ کیا تھی؟
وجہ یہ تھی کہ وہ جانتے تھے کہ صوبے کی جدوجہد کرنے کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلے گا کہ انہیں اپنے منصب، عہدے اورنشستیں چھوڑنا پڑ جایئں گی اورنشستیں چھوڑنے کا منطقی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ اس تمام عیش وعشرت اور چمک دمک سے محروم ہوجایئں گے جو انہیں ان عہدوں کی بدولت حاصل ہے۔ وہ جانتے تھے کہ پھر نہ وہ کسی تھانے میں اپنا زور دکھا سکیں گے نہ کسی سرکاری غیر سرکاری دفتر میں اپنے اثر رسوخ کو استعمال کرسکیں گے۔ وہ اپنے ایم این اے ایم پی اے وغیرہ ہونے کا فائدہ اٹھاکر اپنے من پسند لوگوں کو غیر ملکی ویزے بھی نہیں دلواسکیں گے اور نہ ہی انہیں بار بار امریکہ، دبئی، کینیڈا اور یورپ کے جوائے ٹرپ مل سکیں گے۔ انہیں پتہ تھا کہ وہ اپنی سیاہ اور سفید بیش قیمت گاڑیوں کو بھی واپس کرنے پر مجبور ہوجایئنگے جن میں بیٹھ کر وہ خود کو شہنشاہ عالی مقام سمجھتے تھے اور کارکنوں کو حقارت سے دیکھتے تھے۔
الطاف حسین نے اڑتیس برس سے مہاجر حقوق کی جدوجہد جاری رکھی ہوئی ہے
انہی تمام چیزوں کو دیکھتے ہوئے یہ لوگ اپنی عیاشیاں بچانے کی خاطر قوم فروشی کے گھناؤنے کاروبار میں مصروف رہے۔ الطاف حسین کے کہنے پر ملنے والے ووٹ کا غلط استعمال کرتے رہے اور صوبے کی جدوجہد کو سبوتاژ کرتے رہے۔ جب صوبے کی بات کی گئی اسے یہ کہہ کر رد کردیا گیا کہ ابھی وقت نہیں ہے، ابھی حالات نہیں ہیں، ابھی یہ ہے، ابھی وہ ہے، اگلے ماہ شروع کرینگے اور پھر یہ اگلا ماہ کبھی نہیں آتا تھا۔
اب جب انکی بقا کا سوال پیدا ہورہا ہے اور انہیں نظر آرہا ہے کہ بہت جلد ان کا انجام بھی پی ایس پی کے مردہ گھوڑے  جیسا ہونے والا ہے تو یہ عوام کو کبھی سندھ میں اگلا وزیر اعلی مہاجر ہونے کا راگ سناکر بیوقوف بنانے کی کوشش کررہے ہیں اور کبھی صوبے کی تحریک چلانے کی بات کرتے ہیں۔ ان کا حال یہ ہوچکا ہے کہ یہ کراچی میں ان لوگوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں جن کی تاریخ مہاجرکو نقصان پہنچانے، ان کا قتل عام کرنے سے عبارت رہی ہے۔ یہ کبھی جماعت اسلامی جیسی دہشتگردوں کی سہولت کار تنظیم سے مدد مانگتے ہیں، کبھی مہاجروں کے مسلمہ قاتل اور انہیں تضحیک و تذلیل آمیز الفاظ سے یاد کرنے والے اے این پی کے شاہی سید کے پاس جاکر اس سے تعاون کی بھیک مانگتے ہیں اور کبھی کراچی پر یلغار کرنے اور مہاجروں کے بچوں کا روزگار چھین لینے والے پنجابی، پٹھان اور بنگالی و برمی اور افغانی کے پاس کشکول لیکر پہنچ جاتے ہیں۔
اے پی یم ایس او کے آٹھویں سالانہ کنونشن کے موقعے پر 8 اگست 1986 کو نشتر پارک میں عوام کا سمندر الطاف حسین کا خطاب سننے کیلئے امڈ آیا تھا

آج ان کا حال وہ ہوچکا ہے جوپاکستان میں  اخلاق سے عاری اور چھچھوری سیاست متعارف کرانے والی جماعت کا ہے۔ خواتین کی عزت جو ایم کیوایم کا خاصہ ہے اسے انہوں نےچھوڑدیا ہے اور نشتر پارک میں ہجوم اکٹھا کرنے کیلئے اخلاق باختگی کی تمام حدود پار کررہے ہیں۔

آج یہ الطاف حسین کے دیئے گئے مینڈیٹ پر قبضہ جمائے بیٹے ہیں اور سمجھ رہے ہیں کہ دنیا یہیں تک ہے۔  ان کا خیال ہے کہ یہ اسمبلیاں تاقیامت اسی طرح چلیں گی۔ آج  الطاف حسین کے مینڈیٹ کو نہ چھوڑ کر، قائد کے حکم پر استعفے نہ دیکر ان لوگوں نے ثابت کردیا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ اگر یہ اپنے بل پر الیکشن لڑتے ہیں تو انکی قسمت میں ذلت  ورسوائی ہی آنی ہے، اسکے سوا کچھ نہیں۔ اسی لئے یہ یہ عوام کی امانت کو  بے حیائی کے ساتھ غصب کئے بیٹھے ہیں۔
آج یہ  مایوسی کی حالت میں گلی گلی پھر رہے ہیں  اور لوگوں کی ٹھوڑیوں کو ہاتھ لگا لگا کرمنتیں کررہے ہیں کہ وہ  انکے سرکس میں آکر ان کی لٹتی ہوئی عزت کو بچا لیں۔ لیکن حالت یہ ہے کہ یہ جہاں جاتے ہیں یاتو وہاں جئے الطاف کے نعرے ان کا پیچھا کرتے ہیں یا پھر لوگ انہیں دیکھ کر ادھر ادھر ہوجاتے ہیں۔ مہاجر انہیں ذلت آمیز انداز میں نظرانداز کررہے ہیں  اور  یہ بات ان محسن  کش، احسان فراموش، قوم فروش  غداروں کی سمجھ سے ماورا ہے کہ انہیں رسواکن انداز میں کیوں نظر انداز کیا جارہا ہے۔
ان غداروں، قوم فروشوں، شہیدوں کے لہو کا سودا کرنے والوں، شہیدوں کے بچوں کا حق کھاجانے والوں اور بے شرمی و بے حیائی کے مجسموں کو اب تک یہ بات سمجھ نہیں آئی ہے کہ الطاف حسین ان سب کے باپ ہیں اور یہ اپنے باپ کو بیوقوف بنانے کی   کوشش میں خود ذلیل و رسوا ہوگئے ہیں یہ لوگوں کو اب یہ کہہ کر دھوکہ دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ وہ بانی تحریک کے احترام میں کمی نہیں آنے دے رہے ہیں لیکن عوام بھی انکی ہرچال کو خوب سمجھ رہے ہیں ۔
انشاءاللہ نشتر پارک میں کل کا سورج ان غداروں کیلئے ذلت و رسوائی کا پیغام دینے کے بعد ہی غروب ہوگا اور نئے برس کا سورج انکے لئے ہمیشہ ہمیشہ کی بربادی و نامرادی ساتھ لائے گا۔

Sunday, December 25, 2016

نشتر پارک کا جلسہ اورقصہ ایک گرو اور اسکے چیلوں کا

نشتر پارک کا جلسہ اورقصہ ایک گرو اور اسکے چیلوں کا

ہمارے ایک ہم محلہ اور شناسا جو آج کل پی آئی بی میں حاضری لگاتے ہیں اور بدقسمتی سے ایم پی اے بھی ہیں کل ملاقات کرنے گھر چلے آئے۔ حیرت ہوئی کہ ایم پی اے بننے کے بعد یہ صاحب جو ہمیں دیکھ کر منہ دوسری طرف کر لیا کرتے تھے تاکہ چھوٹے موٹے لوگوں کے سلام کا جواب دے کراپنی توہین نہ کروانی پڑ جائےآج کیسے غریب خانے پر تشریف لے آئے۔ بہرحال قائد کے غداروں کے ساتھ اٹھ بیٹھ رہے تھے اسلئے ہم نے انہیں گھر کے اندر آنے کی دعوت نہ دی اور گیٹ پر کھڑے کھڑے ہی ان سے آمد کا مدعا دریافت کیا۔ انکے ساتھ چند چمچے تھے جو کہنے لگے کہ بھائی تو آپکے ساتھ چائے پینے آئے ہیں، پھر باہر سیکیورٹی کا بھی مسئلہ ہوتا ہے۔ ہم نے ان سے کہا کہ دودھ والے کی بھینس کا انتقال ہوگیا ہے جسکی وجہ سے آج دودھ بھی نہیں آیا  لہذا ہوٹل پر چل کر بیٹھتے ہیں۔ ایم پی اے صاحب کہنے لگے کہ کوئی بات نہیں بغیر دودھ کی چائے پی لیں گے۔ ہم نے پھر انہیں کہا کہ گھر میں چائے کی پتی ختم ہوگئی ہے اور محلے کے دکاندار نے ادھار دینے سے منع کردیا ہے ۔ بولے کوئی بات نہیں،  چائے نہیں تو  ایک گلاس پانی ہی پی لیں گے۔ مقصد یہ تھا کہ بات گھر میں بیٹھ کر ہی کی جائے۔ ہم نے ان سے عرض کیا کہ اگرسیکیورٹی کی ہی بات ہے توگھر میں بیٹھنا باہر کھڑے ہونے سے زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے، میرے لئے بھی اور آپ کے لئے بھی۔ کہنے لگے کہ ایسا کیوں؟ میں نے عرض کیا کہ میری اہلیہ کو پتہ چل گیا کہ قائد کے غدارکو گھر میں بلایا ہے تو نہ آپ بچ سکیں گے اور نہ ہی  میں بچ سکوں گا۔
یہ قصۂ کوتاہ سن کر وہ یوں گویا ہوئے اچھا تو بات یہ ہے  بھائی کہ ہم تیس دسمبر کو نشتر پارک میں جلسہ کرنے جارہے ہیں، بھابی کو پتہ نہ چلے تو آپ تشریف لے آیئں۔ ہم نے عرض کیا کہ ہم توالطاف حسینی ہیں اورآپ غیر حسینی ہوچکے ہیں لہذا ہم آپکے مجمعے میں کیسے جاسکتے ہیں؟ فرمایا کہ ایسی بات نہیں ہے ہم آج بھی الطاف حسین بھائی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ بس ذرا حالات کا تقاضہ ہے اسلئے راستہ بدل لیا ہے لیکن منزل وہی ہے جو الطاف بھائی کی ہے۔ الطاف بھائی ہمارے بانئ تحریک ہیں اور قائد بھی ہیں۔ تو آپ آرہے ہیں نا؟
ہم نے عرض کیا کہ اگر آپ کہتے ہیں کہ آپ الطافی ہیں تو ٹھیک ہے لیکن ہمیں اس کا ثبوت بھی درکار ہے۔ کہنے لگے وہ کیسے؟ ہم نے عرض کیا کہ آپ ہمارے سامنے نعرۂ الطاف جئے الطاف لگایئں اور یہ بات کہیں کہ میں آج بھی الطاف حسین کے ساتھ ہوں اور انہیں اپنا قائد مانتا ہوں اور پی آئی بی میں بیٹھنے والے خود ساختہ لیڈروں کو قوم کا اور قائد کا غدار سمجھتا  ہوں۔ میرے بات پوری کرنے سے پہلے ہی وہ یہ باتیں طوطے کی طرح دوہرانا شروع ہوگئے اور جئے الطاف کا نعرۂ مستانہ بھی لگا دیا۔ ہم نے انہیں بڑی مشکل سے روکا اور کہا کہ جناب ایسے نہیں، ایسے! بولے کیسے؟ ہم نے ہاتھ میں پکڑا موبائل فون کا ویڈیو کیمرہ آن کیا، انکی طرف رخ کیا اور کہا، ہاں! اب کہیں۔
اتنا سننا تھا کہ وہ  گرواور انکےچیلے دم دبا کر ایسے بھاگے کہ دوبارہ نہ صرف گلی میں بلکہ علاقے میں بھی نظر نہ آئے۔ ہم آج بھی ویڈیو کیمرہ لئے انہیں تلاش کررہے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ گلی گلی، کوچے کوچے۔ اب سوچا کہ تیس دسمبرکو وہ نشتر پارک میں مل سکتے ہیں چلو وہاں جاکر پکڑیں گے لیکن پھر خیال آیا کہ بیوی کو پتہ چل گیا کہ ہم نشتر پارک گئے تھے تو گھر سے ہی نکالے جایئں گے۔ اسلئے اب کیمرہ آف کرکے رکھ رہے ہیں۔
لہذا ساتھیو! الطافیو! حسینیو! حق پرستو!
اگر کوئی آئے اورکہے کہ آپ جلسے میں ضرور آیئں ہم بھی الطاف بھائی کے ساتھ ہیں تواس سے کہیں کہ جئے الطاف کا نعرہ لگائے اورکیمرے کے سامنے یہ کہے کہ وہ الطاف حسین کو اپنا قائد، رہبر، رہنما مانتا ہے اور پی آئی بی میں بیٹھنے والے خود ساختہ لیڈروں کو قوم کا اور قائد کا غدار سمجھتا ہے۔ آپ یقین مانیں وہ ایسا رفوچکر ہوگا کہ پھر دوبارہ نظر نہیں آئے گا۔

Thursday, December 1, 2016

میئرکراچی وسیم اخترشہریوں کوغضبناک نہ کریں

وسیم اختر کی کم ظرفی، احسان فراموشی اورمحسن کشی
میئر کراچی مہاجرعوام اور شہریوں کو غضبناک نہ کریں
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے کنوینر ندیم نصرت نے میئر کراچی وسیم اختر سے کہاہے کہ وہ شہرکے ترقیاتی کاموں کو ہرقسم کی سیاست سے علیحدہ رکھیں اور ایم کیوایم سے نکالے گئے افراد سے کوئی تعلق نہ رکھیں۔ محترم ندیم نصرت نے یہ بھی کہا کہ قائد تحریک جناب الطاف حسین نے حق پرست عوام وکارکنان سے اپیل کی ہے کہ کراچی کی ترقی اور عوامی مسائل کے حل کیلئے میئرکراچی وسیم اختر کو کام کرنے دیا جائے اور ان کے کاموں اوردوروں کے دوران کسی قسم کا احتجاج نہ کیاجائے۔
ندیم نصرت نے جو سب سے اہم بات کہی وہ یہ ہے کہ میئرکراچی وسیم اختر کراچی کے ترقیاتی وبلدیاتی امور کو ہرقسم کی سیاست سے علیحدہ رکھیں ، فاروق ستار سمیت کوئی بھی رکن قومی یاصوبائی اسمبلی جب تک اپنی رکنیت سے مستعفی نہیں ہوجاتے انہیں اپنے ساتھ لیکر نہ چلیں، جن لوگوں کو ایم کیوایم سے نکال دیا گیا ہے ان سے کوئی تعلق نہ رکھیں ، شہرکے ترقیاتی کاموں کے سلسلے میں انہیں ساتھ لیکر نہ چلیں اوربلدیاتی امور میں ان سیاسی عناصر کاعمل دخل نہ ہونے دیا جائے کیونکہ ایسے عناصر کی میئرکراچی کے ساتھ موجودگی سے ہی عوام وکارکنان کے جذبات مجروح ہورہے ہیں۔
اس بیان کا تجزیہ کیا جائے تو چند اہم نتائج اخذ کئے جاسکتے ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ یہ قائدتحریک کی اعلی ظرفی کا ایک بے مثال مظاہرہ ہے اور ساتھ ہی اس سے قائد کے غداروں کی کم ظرفی اور نیچ پن بھی اور نمایاں ہوگیا ہے۔
دوسری اہم بات یہ کہ قائد نے اپنے کارکنان کو ہمیشہ یہ تعلیم دی کہ جب کبھی قوم کا اجتماعی مفاد سامنے ہو تو اس کیلئے اپنی انا کو ختم کردیں۔ قائد تحریک بار بار اپنی ذات پر اس کا اطلاق کرتے رہے ہیں اور انہوں نے کبھی بھی اپنی ذاتی انا کو قومی مفاد پر حاوی نہ ہونے دیا۔ اب قائدتحریک نے وسیم اختر کو کام کرنے دینے کیلئے عوام و کارکنان سے جو اپیل کی ہے اس سے ایک بار پھر ثابت ہوگیا کہ انہیں اپنی ذاتی انا کے بجائے قوم کا اجتماعی مفاد ہی  عزیز ہے۔
اس کے بعد جو اہم ترین بات ہے وہ یہ کہ وسیم اخترکو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے ساتھ ان لوگوں کو لیکر نہ چلیں جو قوم فروشی اور غداری کے مرتکب ہوئے کیونکہ عوام ایسے ہی لوگوں کو دیکھ کرمشتعل ہوجاتے ہیں۔
لیکن انسانی صفات میں سے ایک بہت بڑی صفت وہ ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا، جسے ظرف کہتے ہیں۔ اعلی ظرفی اور کم ظرفی انسانی خصوصیات میں سے ہیں۔ اعلی ظرف انسان اپنے عمل سے اور کردار سے پہچانا جاتا ہے اور کم ظرف بھی اپنے اعمال اور کردار سے ہی پہچانا جاتا ہے۔ قائد تحریک نے اعلی ظرفی کا جو مظاہرہ کیا وسیم اختر نے اس کا جواب کم ظرفی سے دیا۔ وہ نہ صرف اپنے ساتھ پی آئی بی میں براجمان قوم فروشوں کو ساتھ لیکر چلتے رہے بلکہ انہوں نے ایک ٹی وی چینل پر اپنے خلاف احتجاج کرنے والے عوام کو غنڈے اور بدمعاش کہہ کر اپنے نیچ اورگھٹیا پن کا عملی مظاہرہ بھی کیا۔ یہ وہی عوام ہیں جن کے ووٹ سے یہ کراچی کے میئر کے عہدے پر فائز ہوئے اور آج ٹی وی چینلز پر انٹرویو دیتے ہوئے اس حقیقت کو فراموش کر بیٹھے کہ انہیں الیکشن میں کامیاب کرانے کیلئے قائد تحریک نے ایک ایک دن میں کئی کئی خطاب کئے، عوام سے اپیلیں کیں، قائد کے کہنے پرہی عوام نے خطیر رقمیں الیکشن کے اخراجات کیلئے ادا کیں اورالیکشن مہم چلاتے ہوئے نہ دن کو دن اور نہ رات کو رات سمجھا۔ ان لوگوں نے یہ سب صرف اور صرف الطاف حسین کے نام پرکیا۔

وسیم اختر یہ بھی بھول گئے کہ الیکشن مہم کا بنیادی نعرہ " میئر تو اپنا ہونا چاہئے " تھا۔   لیکن   وہ اس نعرے کو بھول گئے اور آج یہ کم ظرف شخص کراچی پر غاصبانہ قبضے کی خواہشات دلوں میں پالنے والوں، مہاجر عوام کو فحش گالیاں دینے والوں،  مہاجروں کو زندہ آگ میں جلادینے والوں کے دروازوں پر بھیک کا کٹورا ہاتھ میں لئے دستکیں دیتا پھر رہا ہے۔
آج اس شخص کا کہنا ہے کہ کراچی کے عوام صرف صفائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔  گویا کراچی کے عوام کو تعلیمی ادارے، ہسپتال، ٹرانسپورٹ  کا نظام  اور انفرااسٹرکچر کی ضوررت نہیں ہے۔ یہ بیان دے کر اس نے مہاجر دشمن صوبائی حکومت  کے ایجنٹ ہونے کا ثبوت دیا ہے جو کراچی کو صحت، تعلیم اور انفرا اسٹراکچر سے محروم رکھنا چاہتی ہے۔ وسیم اختر نے ایک ہی سانس میں یہ بھی کہا کہ وہ وسائل  اور اختیارات کے بغیر بھی صرف اپنے جذبے اور عزم سے  کام کرکے دکھایئں گے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وسائل کے حصول کیلئے جدوجہد کرنے کے بجائےآپ نے تو اپنے حق کو بھی سرنڈر کردیا۔ کراچی کے عوام سوال کرتے ہیں کہ یہ بغیر وسائل کے کیوں کام کریں گے اور کیسے کریں گے۔ جب کراچی کے عوام ٹیکس دیتے ہیں تو  وہ وسائل سے محروم کیوں رہیں۔ کوئی اور انکے وسائل پر قبضہ کیوں کرے؟ اسکے علاوہ بغیر وسائل کے کام کرنا سیاسی نعرہ تو ہوسکتا ہے لیکن حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں کیونکہ عزم اور جذبے سے آپ ایک جھاڑو بھی نہیں خرید سکتے۔سچ بات تو یہ ہے کہ یہ کراچی کے عوام کو بیوقوف بنانے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔
وسیم اختر نے یہ بھی کہا کہ لندن سے آنے والے میئر، ڈپٹی میئر بننے کی کوششیں کرتے ہیں لیکن اب پاکستان میں رہنے والا شخص  ہی ان عہدوں پر فائز ہوسکے گا۔ وہ یہ بھول گئے کہ انکی کامیابی لندن کی ہی مرہون منت تھی۔ اگر انہیں اس سے انکار ہے تو ذرا ایک بار اپنے اور اپنے سرپرستوں کے بل پر الیکشن لڑ کر دیکھ لیں۔ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا اور انہیں اپنی اوقات کا بھی پتہ چل جائے گا۔
وسیم اختر کو اور اسکے سرپرستوں کو یہ حقیقت ہرگز فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ یہ لوگ قوم فروش، محسن کش اور غدار کے ناموں سے مہاجر عوام میں پہچانے جانے لگے ہیں۔ اپنے خلاف عوام کے شدید ردعمل کو کبھی خالد مقبول نے پچاس ساٹھ افراد قرار دیا، کبھی عامر خان نے انہیں چند غنڈہ عناصر کا نام دیا اور آج  وسیم اختر نے بھی یہی ہذیان بکا کہ آٹھ دس غنڈوں بدمعاشوں  سے ڈرنے والے نہیں۔ انہیں چاہئے کہ اپنے خلاف عوامی غیض و غضب کو اتنا  بڑھاوا نہ دیں کہ ان  کے سرپرست انہیں محفوظ راستہ بھی فراہم نہ کرسکیں۔
قائد تحریک  کےنام لیوا آٹھ دس نہیں  لاتعداد و بے شمار ہیں لیکن اگر وہ آٹھ دس تو کیا ایک یا دو بھی ہوں تو ان بزدلوں اور بے حمیت لوگوں پر بھاری ہی ہونگے۔ انہیں اب واپسی کا صرف ایک ہی راستہ مل سکتا ہے کہ یہ استعفے دے کر  قائد تحریک سے جو انکے محسن ہیں معافی طلب کریں۔ علی الاعلان میڈیا پر آکو مہاجر عوام سے اپنے گناہوں پر معافی مانگیں اور اسکے بعد کسی کونے میں خاموشی سے بقیہ زندگی گذاردیں۔ کیونکہ معافی تو مل جائے گی لیکن اب یہ اپنے آپ کو معاشرے میں کبھی قابل عزت مقام پر نہیں دیکھ سکیں گے۔ تلخ ترین حقیقت یہ ہے کہ ان کا کیا ان کی اولادوں کے سامنے آئے گا جنہیں تعلیمی اداروں میں  غدار کے بچے کہہ کر چھیڑا جائے گا، کہیں کام کرنے جایئں گے تو ان پر اعتماد نہیں کیا جائے گا اور اب ان لوگوں کے بچوں کو انکے جیسے گھرانوں میں تو شائد رشتے مل جایئں لیکن کوئی شریف انہیں منہ لگانا اور ان سے رشتہ داری کرنا پسند نہیں کرے گا۔
حرف آخر: بیشک اس دنیا میں بہت سے لوگ ایسے بھی  ہوتے ہیں جنہیں اللہ عزت دیتا ہے لیکن وہ خود ہی اس نعمت سے منہ پھیر لیتے ہیں اور اپنے لئے ذلت و رسوائی کا انتخاب کرتے ہیں۔

Friday, November 18, 2016

پی آئی بی والوں کیلئے آزمائش شرط ہے۔ از: احمداشفاق

پی آئی بی والوں کیلئے
آزمائش شرط ہے
از: احمداشفاق
الطاف حسین  سےمحبت کرنے والے بے شمار لوگوں میں سے ایک احمداشفاق  بھی ہیں۔ احمد سوشل میڈیا پر سرگرم ہیں اور انکی تحریریں مختصر لیکن بہت بھرپور ہوتی ہیں۔ قائد سے محبت کا اظہار بھی کرتے ہیں اور اپنی بات کو دلائل سے تقویت بھی دیتے ہیں۔ ان کی ایک بہت پراثر تحریر فیس بک کی زینت بنی۔ اس تحریر کی اثر انگیزی دیکھتے ہوئے اسے یہاں نقل کیا جارہا ہے۔ موجودہ حالات میں بہت سی تحریریں اپنی اثر انگیزی کے باعث سیع ابلاغ کی متقاضی  ہوتی ہیں  لہذا اس مقصد کی خاطر کہ یہ زیادہ سے زیادہ پڑھی جاسکیں ہم نے ان تحریروں کو بلاگ پرشائع کرنے کا اہتمام کیا ہے۔ امید ہے کہ قاریئن اسے سلسلے کو پسند فرمایئں گے۔ جہاں ممکن ہوسکا ہم نے صاحب تحریر سے اجازت حاصل کی ہے۔
 احمد اشفاق کی مزید تحریریں پڑھنے کیلئے ان کا فیس بک لنک یہ ہے:
 
  facebook.com/ahmed.ashfaq2

ڈر ڈر کے جاگتے ہوئے کاٹی تمام رات
گلیوں میں تیرے نام کی اتنی صدا لگی
کچھ یہی حال آج کراچی میں موجود ایم کیو ایم کی قیادت کا ہے ، اس شہر کو اپنا کہنے والے ، اس شہر کے وارث ہونے کا ڈھول پیٹنے والے آج ایک انجانے شور سے خوفزدہ ہیں ،انجانا اس واسطے کہ انہوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ یہ شور پھر سنائی دیگا ، انھیں اندازہ ہی نہیں تھا کہ کراچی کی سڑکوں پر پھر سے الطاف الطاف کی صدائیں بلند ہوں گی ---  اور آج وہ ان نعروں کی گونج سے کان بند کرنے پر مجبور ہیں ،ان نعروں کے خوف سے یادگار شہدا سے لوٹنے پر مجبور ہوئے ، وہی نعرے جو کبھی وہ خود لگایا کرتے تھے
میں ان اعمال کو خوف سے تعبیر اس لئے کرتا ہوں کیوں کہ میں ایم کو ایم پاکستان کے اجتماعات میں بارہا کچھ ایسے جملے سن چکا ہوں جن سے خوف عیاں ہے اور ڈر ہے کہ اگر ایسی باتیں نہ کی گیئں تو عوامی ردعمل سامنے آے گا، چند جملے نذر کیے دیتا ہوں
بانی و قائد کی عزت و احترام میں کوئی کمی نہیں کریں گے
وہ بہرحال تحریک کے بانی ہیں ، ان کی ایک عزت ہے
ہم کبھی بھی بانی کے خلاف غلط زبان استعمال نہیں کریں گے
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ایم کو ایم بنا کر مہاجروں کو ایک شناخت بانی نے ہی دی ہے  

کوئی پوچھے کہ جناب اگر بائیس اگست کو الطاف حسین صاحب نے ملک کے خلاف بات کی ، جسے بغاوت سے تعبیر کیا جا رہا ہے تو پھر ایک غدّار کے لئے کس بات کی تکریم اور کیسا احترام ؟ آپ الطاف حسین کے خلاف آرٹیکل ٦ کے تحت قرارداد لے آئے (یاد رہے کے اس میں موت کی سزا سنائی جا سکتی ہے ) تو پھر کس قسم کا مقام اور مرتبہ ؟ ایک آدمی ملک کے خلاف ہے ، اور آپ نے بھی تسلیم کر لیا کہ ہاں یہ ملک دشمنی ہے تو پھر کیسی عقیدت اور وابستگی ؟؟ آپ نے تو کوئی کسر نہیں چھوڑی ، اپنی جانب سے تو حجت تمام کر دی ، اب رہ ہی کیا گیا کرنے کو؟ آپ عوام کے سامنے یہ کیوں نہیں کہہ پاتے کہ الطاف حسین ملک دشمن ہے ، الطاف حسین پاکستان مخالف ہے ، الطاف حسین غدّار ہے ، موت کا حقدار ہے ------ آپ کو بار بار عوام کے سامنے آ کر الطاف حسین کے بارے میں نرم گوشہ کیوں ظاہر کرنا پڑتا ہے ؟ کیوں یہ کہنا پڑتا ہے کہ ان کی عزت میں کمی کبھی نہیں آ سکتی ؟؟؟؟ ثابت ہوا کہ آپ یہ ڈھکوسلے صرف اس لئے کرتے ہیں کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ مہاجر قوم الطاف حسین کو ہر حال میں قبول کرتی ہے ، اور یہی وہ خوف ہے جو آپ پر طاری ہے ، آپ جانتے ہیں کہ آپ کا الطاف حسین کے خلاف بھرپور انداز میں بات کرنا آپ کی سیاست کو ہمیشہ کے لئے پی آئ بی کی گلیوں میں مدفون کر دیگا
الطاف حسین کے حامیوں کا یادگار شہدا تک آ جانا کامیابی نہیں تھی ، آپ کا وہاں سے چلے جانا ان کی فتح تھی --آپ کے اجتماعات میں الطاف حسین کے نعرے الطاف حسین کی جیت ہے------ خوف آپ کو الطاف حسین کا نہیں ہے ، اس قوم کا ہے جس نے الطاف حسین کو لیڈر بنایا اور پھر اسی الطاف حسین کے کہنے پر آپ کو ایوانوں میں پہنچایا-------- آپ خوفزدہ ہیں ، سب کچھ ہو کر بھی خوفزدہ ہیں ، وسائل کے ساتھ ، ریاستی سر پرستی کے باوجود سہمے ہوئے ہیں ---- آپ کا یہ خوف الطاف حسین کی طاقت ہے ، آپ کی یہ مصلحت الطاف حسین کی مقبولیت ہے ،آپ کی یہ پارٹی الطاف حسین کی مرہون منت ہے ، آپ کا یہ فلسفہ الطاف حسین کی عنایت ہے،آپ کو آج بھی عوامی پذیرائی کے لئے الطاف حسین کی ضرورت ہے ، آپ کی یہ لیڈری مہاجر قوم کی امانت ہے ، تو کیا ہی بہتر ہو کہ آپ اس عوام کو ہی فیصلہ کرنے دیجئے ؟ اور اس عوامی رائے کو جانچنے کے لئے الیکشن کا انتظار بھی مت کیجئے بلکہ اپنے خوف کے بت کو توڑتے ہوئے کسی عوامی اجتماع میں اپنی مبارک زبان سے الطاف حسین کو ملک دشمن ، غدار اور پھانسی کا اہل قرار دے دیجئے ، اور پھر دیکھئے کہ عوام کس کے ساتھ ہیں !!! یہ نسخہ بہت سادہ سا ہے لیکن آزمائش شرط ہے ------ کیوں نہ اسے پچیس دسمبر کے جلسے میں ہی آزما لیا جائے؟؟؟؟؟؟؟


Friday, November 11, 2016

عشرت العباد کی رسوا کن رخصتی: جس نے الطاف حسین کو تکلیف دی رسوائی اس کا مقدر بنی

عشرت العباد کی رسوا کن انداز میں رخصتی
1972 میں سندھ اسمبلی نے سندھی زبان کو سندھ کی واحد سرکاری زبان بنانے کا بل پیش کیا جس پر مہاجروں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ سندھی گورنرمیر رسول بخش تالپور اور سندھی وزیراعلی ممتاز بھٹو کے بیانات نے فسادات کو شہہ دی جسکے نتیجے میں درجنوں مہاجرکراچی کی سڑکوں پرسرکاری بندوقوں کا نشانہ بنے اورایک بڑی تعداد اندرون سندھ جان سے گئی۔ ان فسادات کی آڑ میں مہاجروں کو سندھ سے ہجرت پر مجبور ہونا پڑا اور وہ اپنی جایئدادیں اونے پونے فروخت کرکے سندھ سے بھاگنے پرمجبور کردیئے گئے۔
1972 میں کراچی میں سندھی کو واحد سرکاری زبان بنائے جانے کیخلاف احتجاج کرنے والوں پر ریاستی تشدد کیا گیا
فسادات جب اچھی طرح بھڑک چکے تواس وقت کے صدر ذوالفقار علی بھٹو نے مہاجر اور سندھی اکابرین کا اجلاس بلایا اور مصالحت کرائی گئی اس مصالحت کی بنیاد پر ایک معاہدہ عمل میں آیا جسکے تحت سندھ میں حکومت پر دونوں لسانی گروہوں کا حق تسلیم کیا گیا اور طے ہوا کہ آیئندہ سندھ میں مہاجر اور سندھی مل کر حکومت کریں گے۔ اسکی صورت یہ بنائی گئی کہ اگر وزیر اعلی سندھی ہوگا تو گورنر مہاجر ہوگا اور اگر گورنر سندھی ہوا تو وزیر اعلی مہاجر ہوگا۔ اس معاہدے کا مقصد یہ تھا کہ سندھ جو ایک ذولسانی صوبہ ہے وہاں دونوں برادریوں کے مفادات کا تحفظ ہوسکے۔
سندھ کا میٹرک فیل گورنر میر رسول بخش تالپور
شومئی قسمت کہ اس معاہدے کا نفاذ اس طرح کیا گیا کہ وزیر اعلی کا منصب صرف اور صرف سندھی کیلئے مخصوص کردیا گیا اور وزارت اعلی کو مہاجروں کیلئے شجر ممنوعہ بنادیا گیا۔ مہاجروں نے وسعت قلبی کا مظاہرہ کیا اور اس پر احتجاج نہیں کیا۔
معاہدے کی روح یہ تھی کہ گورنر مہاجروں کے حقوق کا تحفظ کرے گا اسی لئے سندھ کی حد تک گورنری کا منصب دوسرے صوبوں سے جداگانہ حیثیت رکھتا ہے اور اس پر جو بھی تقرری ہوتی ہے اس کے لئے ضروری ہیکہ مہاجروں کی متفقہ قیادت سے مشورہ کیا جائے۔
اسٹیبلشمنٹ جب تک مہاجروں میں غدار پیدا کرنے میں ناکام رہی اس وقت تک یہ بندوبست کافی حد تک ٹھیک چلتا رہا لیکن جونہی مہاجروں میں غدار پیدا کرکے انکے اتحاد کو نقصان پہنچایا گیا اورگورنرسمیت مہاجروں میں موجود کالی بھیڑوں کو اپنے جال میں پھانس لیا گیا اس کے فوری بعد وہی نتیجہ سامنے آیا جس کا خدشہ تھا۔ وفاق نے کسی مطلق العنان بادشاہ کا کردار ادا کرتے ہوئے نہ صرف گورنر کو ہٹادیا بلکہ مہاجروں کے کسی نمایئندے سے مشورہ کئے بغیر اپنی مرضی سے یہاں گورنر مقرر کردیا۔ نئے گورنر سعیدالزماں صدیقی سابق چیف جسٹس ہیں اوروہ مسلم لیگ نواز سے تعلق رکھتے ہیں لہذا وہ بجائے مہاجروں کے نمایئندے کے نواز شریف کےکارکن کی حیثیت سے ہی کام کرینگے۔ انکی پیرانہ سالی دیکھتے ہوئے بھی یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کی حیثیت محض ایک نمائشی گورنر کی ہوگی جبکہ نہال ہاشمی، اعجاز شفیع جیسے لوگ  گورنر ہاؤس کو اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے مطابق چلارہے ہونگے۔ اور مہاجر اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ لوگ ان سے کتنے مخلص ہوسکتے ہیں۔

عزت سب کو راس نہیں آتی
وفاق کا یہ عمل کسی بھی طرح مہاجر آبادی کیلئے قابل قبول نہیں ہوگا اور اس زور زبردستی اور بدمعاشی کا جو نتیجہ نکلے گا وہ انتہائی خطرناک ہوگا۔ مہاجروں کودیوار سے لگادینے کے بعد اب ان کے گلے دبانے کی تیاری کی جارہی ہے اور یہ عمل یہیں نہیں رکے گا بلکہ مہاجروں کے بعد سندھی کی باری بھی آئے گی کیونکہ مقصد وہ نہیں ہے جو بظاہر نظر آرہا ہے بلکہ اصل منصوبہ تو بہت ہی بڑا ہے۔
افسوس اس بات کا ہے کہ اس ساری صورتحال کے پیدا ہونے میں مہاجر وں میں موجود کالی بھیڑیں ہی ملوث ہیں۔ گورنر نے مہاجر مفاد کا سودا کیا۔ انہوں نے گورنری کو اپنا ذاتی مال سمجھا اور بجائے مہاجروں کے حقوق کا تحفظ کرنے کے اپنی کرسی کو مضبوط کرنے کیلئے مہاجر دشمن طاقتوں کے آلہ کار بن گئے۔ کراچی سے مہاجروں کی طاقت کو ختم کرنے کیلئے کی جانے والی سازشوں کو دیکھنے کے باوجود خاموش رہے۔ وہ محسن کشی، قوم فروشی اور اپنے قائد سےدغا  کرنے جیسے قبیح  افعال  میں مصروف رہے۔  وہ اگر سازشوں کو روک نہیں سکتے تھے تو انہیں اپنے عہدے سے مستعفی ہوکر پارٹی میں واپس آجانا چاہئے تھا اور مہاجر عوام کو ساری صورتحال سے آگاہ کردینا چاہئے تھا۔ اس طرح وہ قوم کے ہیرو ہوتے لیکن انہوں نے مہ راستہ اختیار کیا جو میر حعفر اور میر صادق نے اختیار کیا تھا ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انہیں انتہائی رسوا کن اور ذلت آمیز انداز سے گورنر ہاؤس چھوڑنا پڑا۔ اس سے پہلے انہیں ایک اور قوم فروش کو استعمال کرکے سرعام گالیاں دلواکر انکی  توہین و تضحیک اور کردار کشی  کی گئی لیکن اس وقت بھی انہیں بات سمجھ میں نہ آسکی۔ درحقیقت یہ مکافات عمل ہے۔ کئی برسوں سے وہ اپنی قوم کودھوکہ دیتے رہے ، اپنے قائد سے غداری کرتے رہے ، اپنے محسن کے احسانات کو بھول کر انکے لہو کے پیاسوں سے گٹھ جوڑ میں مصروف رہے، شہیدوں کے لہو کا سودا کرتے رہے۔ مہاجر کارکنان گھروں سے اٹھائے جاتے رہے اور ان کی مسخ شدہ لاشیں ویرانوں سے ملتی رہیں لیکن  وہ گورنر ہاؤس میں پر تعیش  تقریبات کا اہتمام کرتے رہے تو یہ تو ہونا ہی تھا۔

آج ان کی ذلت و رسوائی ختم نہیں ہوگئی ہے بلکہ یہ تو آغاز ہے۔ اب وہ اپنے سیاسی مستقبل کی بات کررہے ہیں لیکن ان کا سیاسی مستقبل ختم ہوچکا ہے کوئی جماعت انہیں اپنے ساتھ رکھنے کو تیار نہیں ہوگی۔  اور اگر کسی جماعت میں لے بھی لئے گئے  تو ان کا حال گھر کی دہلیز پر بیٹھے ہوئے کتے کی مانند ہی ہوگا۔ انہوں نے اپنے محسن جناب الطاف حسین کے دل کو جو تکلیف پہنچائی ہے یہ اس کا ہی مآل ہے۔ وہ اب کبھی پنپ نہ سکیں گے  کیونکہ یہ ناقابل تردید تاریخی حقیقت ہے کہ جس نے الطاف حسین کو تکلیف دی  رسوائی اس کا مقدر بنی اور وہ پھر کبھی نہ  پنپ سکا۔ڈاکٹر عشرت العباد کیلئے اب  ایک ہی قابل عزت راستہ رہ گیا ہے اور وہ یہ کہ وہ ایک بار پھر قائد تحریک سے رجوع کریں، ان سے اپنے کئے کی معافی طلب کریں اور ایک بار پھر حق پرستی کے قافلے میں شامل ہوکر قائد کے ہاتھ مضبوط کریں۔ قائد تحریک وسیع القلب شخصیت کے مالک ہیں قوی امکان ہے کہ وہ انہیں  معاف بھی کردیں گے۔